Skip to main content

بہاولپور کے ذہین مکینک نے 40 ہزار روپے میں گاڑی تیار کر لی

بہاولپور کے ذہین مکینک نے 40 ہزار روپے میں گاڑی تیار کر لی

دوست کہتے ہیں کہ تمہیں بھی منی جہاز بنانے والے نوجوان کی طرح پولیس پکڑ لے گی۔ ستر سی سی موٹر سائیکل کے انجن سے گاڑی تیار کرنے والے نوجوان کو گرفتاری کا ڈر ستانے لگا


بہاولپور کے ذہین مکینک نے 40ہزار روپے میں گاڑی تیار کر لی۔پاکپتن میں آٹھویں پاس محنت کش نے طیارہ بنایا تو بہاولپور میں مکینک نے موٹر سائیکل نے انجن سے شاہکار تیار کر ڈالا۔تفصیلات کے مطابق بڑھتی مہنگائی میں گھٹتے وسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بہاولپور کے 27 سالہ مکینک نے کم لاگت میں 4نشستوں والی گاڑی تیار کر کے کمال مہارت کا مظاہرہ کر دیا۔
محمد نصیر نامی شخص بنائی گئی گاڑی میں موٹرسائیکل کا انجن نصب کیا گیا ہے۔4 افراد کی گنجائش رکھنے والی اس انوکجی منی کار کی لاگت صرف 40 ہزار روپے ہے۔با صلاحیت مکینک کو اس کی تیاری میں6 ماہ لگے۔محمد نصیر نے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اپنا پیٹ کاٹ کر بچت کی اور کبھی دو،تین سو رو کبھی پابچ سو روپے بچا کر بالاآخر یہ کار بنا لی۔

ستر سی سی موٹر سائیکل کے انجن سے گاڑی بنا دینا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
بے شک محمد نصیر حکومتی سطح پر پزیرائی کا مستحق ہے۔تاہم یہاں پر محمد نصیر کا کہنا ہے کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ پولیس مجھے گرفتار نہ کر لے۔کیونکہ پاکپتن میں منی جہاز بنانے والے نوجوان کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔خیال رہے محمد فیاض کو31 مارچ کواس کا اپنا بنایا ہواجہاز اڑانے کی کوشش کرنے پر پولیس نے گرفتار کرکے مقدمہ درج کرتے ہوئے اس کا جہاز بھی قبضے میں لے لیا تھا۔
تاہم اگلے ہی روز عدالتنے محمد فیاض کو تین ہزار روپے جرمانہ کرکے رہا کردیا تھا۔ بینک سے قرض لے کر اور اپنی زمین فروخت کرکے اپنی مدد آا پ کے تحت چھوٹا جہاز بنانے والے محمد فیاض نے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ اس کا جہاز اسے واپس کیا جائے۔ ڈی پی او پاکپتن ماریہ محمود کی ہدایت پر پولیس نے جہاز واپس کر دیا جس پر محمد فیاض کا کہنا ہے کہ وہ اپنا تیار کردہ جہاز واپس ملنے پر بے حد خوش ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سول ایوی ایشن ٹیم جہاز کے جائزے کے ساتھ محمد فیاض سے بھی ملے گی

Comments

Popular posts from this blog

لداخ میں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات

ل د اخ می ں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے چین دنیا کی ابھرتی  ہوئی بڑی سیاسی اور فوجی طاقت ہے۔جس سے یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک خائف نظر آتے ہیں۔لیکن اس کےچین دنیا کی ابھرتی  باوجود خود چین اپنے مخصوص طرز عمل کی وجہ سے کسی بھی جگہ پر جھگڑے کا باعث نہیں بنا بلکہ جھگڑے کی صورت میں ہمیشہ چین نے مصالحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔ اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے لیکن اب چین کے ساتھ اس نے اپنا تنازعہ کھڑا کرکے پوری دنیا کو اس خطے کی طرف متوجہ کردیا ہے۔دنیا بھر کے مبصرین حیران ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کرونا جیسی وبا سے نمٹنے میں...

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ میں جہڑپیں

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کے محاذ پر کیا ہو رہا  انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے مشورہ کیا ہے لیکن اس ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت بھی کی ہے۔ ان دونوں میٹنگز کا پیش خیمہ رواں م...

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی  یہ اکتوبر 1954 کی بات ہے ۔ عین اس روز جب اُس زمانہ کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وہائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیئزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا یا دراصل یہ پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی، اسلحہ کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں پاکستان میں اس مسئلے پر کافی لے دے ہوئی تھی کیونکہ بہت سے مبصرین کے نزدیک صدر آیئزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔ اسی حوالے سے مزید پڑھیے پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری نشانے پر پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟ ’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘ پاکستان کی طرف سے آیئزن ہاور ک...