Skip to main content

افغان امن عمل میں بڑی پیش رفت

دو ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے تین روزہ جنگ بندی کے جواب میں دوہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع  کرنے کا اعلان کیا ہے


اے ایف پی کے مطابق صدر اشرف غنی کے ترجمان نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ’صدر اشرف غنی نے عید الفطر پر طالبان کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے جواب میں 2 ہزار طالبان قیدیوں کو ’ جذبہ خیر سگالی  کے طور پر رہا کرنے کا عمل شروع کیا ہے
اشرف غنی نے اس سے قبل اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ  طالبان کی طرف سے جنگ بندی کی اس پیش کش کاخیر مقدم کرتا ہوں. 



افغان طالبان نے عید الفطر پر 3 دن تک جنگ بندیکا اعلان کیا تھا 

’افغان حکومت  امن کی اس دعوت کو قبول کرتی ہے۔ بطور کمانڈر انچیف افغان نیشنل ڈیفنس سیکیورٹی فورس (اے این ڈی ایس ایف ) کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اس تین روزہ  جنگ بندی کا احترام کرے اور صرف حملے کی صورت میں دفاع کیا جائے‘۔
یاد رہے کہ ہفتے کی رات افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےاعلان کیا تھا کہ طالبان اتوار سے 3 دن تک پورے ملک میں جنگ بند رکھیں گے

Comments

Popular posts from this blog

لداخ میں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات

ل د اخ می ں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے چین دنیا کی ابھرتی  ہوئی بڑی سیاسی اور فوجی طاقت ہے۔جس سے یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک خائف نظر آتے ہیں۔لیکن اس کےچین دنیا کی ابھرتی  باوجود خود چین اپنے مخصوص طرز عمل کی وجہ سے کسی بھی جگہ پر جھگڑے کا باعث نہیں بنا بلکہ جھگڑے کی صورت میں ہمیشہ چین نے مصالحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔ اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے لیکن اب چین کے ساتھ اس نے اپنا تنازعہ کھڑا کرکے پوری دنیا کو اس خطے کی طرف متوجہ کردیا ہے۔دنیا بھر کے مبصرین حیران ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کرونا جیسی وبا سے نمٹنے میں...

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ میں جہڑپیں

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کے محاذ پر کیا ہو رہا  انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے مشورہ کیا ہے لیکن اس ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت بھی کی ہے۔ ان دونوں میٹنگز کا پیش خیمہ رواں م...

بھارت چین تنازعہ، پاکستان بھی میدان میں کودپڑا، زبردست اعلان کردیا

بھارت چین تنازعہ، پاکستان بھی میدان میں کودپڑا، زبردست اعلان کردیا اسلام آباد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور بھارت جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستانکے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا رہا ہے اور اب بھارت متنازع علاقے میں فضائی پٹی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔ بھارت کے جارحانہ رویے سے خطے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ چین نے کبھی بھی جارحیت نہیں کی۔