Skip to main content

وزیر اعظم کے بجائے عمران خان کو ”وزیر صحت” کیوں کہا گیا؟

اپوزیشن نے وزیر صحت عمران خان کی برطرفی کا مطالبہ کردیا وزیر اعظم کے بجائے عمران خان کو ”وزیر صحت” کیوں کہا گیا؟ تفصیلات پڑھ کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائینگے

 
اسلام آباد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیرِ صحت عمران خان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ وزیراعظم عمران صاحب کے پاس شعبہ صحت کا '' لْک آفٹر چارج'' ہے ،وزارِت صحت ٹھیکہ پہ چل رہی ہے جس کا وزیر لاپتہ ہے ۔ ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ ٹھیکے پہ چلتی حکومت نے وفاقی دارالحکومت کے صحت کے نظام کو ٹھیکے پہ دے دیا ہے ۔اسلام آباد میں کورونا کے مریض 2100 سے زیادہ ہوگئے لیکن وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں عارضی چارج پہ چلایا جا رہا ہے انہوں نے کہاکہ پمز،


پولی کلینک، فیڈرل گورنمنٹ ہاسپٹل عارضی چارج پہ چل رہے ہیں ،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری۔ہیب لیٹیشن میڈیسن اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ عارضی چارج پر چل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی ہیلتھ بھی عارضی چارج پہ ہے ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) بھی عارضی چارج پر چلائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نالائق ، نااہل ، چور حکومت تین ماہ میں چار سیکرٹری صحت تبدیل کر چکی ہے ،پی ایم ڈی سی آج تک عمران صاحب کی انّا کا نشانہ بنا ہوا ہے اور مکمل طور پہ فعال نہیں ہو سکا ۔ انہوں نے کہاکہ نالائقوں اور چوروں کی حکومت نے ہر شعبے کی طرح صحت کے شعبے کا بھی بیڑہ غرق کر دیا ہے ، انہوں نے کہاکہ سات سال میں خیبر پختونخوا کے صحت کا نظام تباہ کرنے کے بعد پورے پاکستان کا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا ہے،کورونا متاثرین اور اموات کی بڑھتی تعداد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فی الفور مستقل تعیناتیاں کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت سے جان بچانے والی دوائیوں کی درآمد کی آڑ میں اربوں کا ڈاکہ ڈالنے کے کئے نظام عارضی چارج پہ چلایا جا رہا ہے ،عارضی چارج پر اس لئے چلایا جارہا ہے تاکہ دوائیوں کی 500 فیصد قیمتیں بڑھا کر ڈاکہ ڈالا جاسکے جس پر آج تک کسی کو پوچھا تک نہیں گیا ،کورونا مریضوں اور ہسپتالوں کا برا حال ہے لیکن نتھیا گلی میں سیر کرتے وزیراعظم لاپتہ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

لداخ میں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات

ل د اخ می ں چین بھارت کشیدگی، کسی بڑی جنگ کے منڈلاتے خطرات بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے چین دنیا کی ابھرتی  ہوئی بڑی سیاسی اور فوجی طاقت ہے۔جس سے یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک خائف نظر آتے ہیں۔لیکن اس کےچین دنیا کی ابھرتی  باوجود خود چین اپنے مخصوص طرز عمل کی وجہ سے کسی بھی جگہ پر جھگڑے کا باعث نہیں بنا بلکہ جھگڑے کی صورت میں ہمیشہ چین نے مصالحت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحدی تنازعات ہیں۔ اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اس خطے میں خطرے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔نیپال، بنگلہ دیش، اور پاکستان کے ساتھ تو اس کے تنازعات کی ایک تاریخ ہے لیکن اب چین کے ساتھ اس نے اپنا تنازعہ کھڑا کرکے پوری دنیا کو اس خطے کی طرف متوجہ کردیا ہے۔دنیا بھر کے مبصرین حیران ہیں کہ اس وقت پوری دنیا کرونا جیسی وبا سے نمٹنے میں...

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ میں جہڑپیں

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کے محاذ پر کیا ہو رہا  انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے مشورہ کیا ہے لیکن اس ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت بھی کی ہے۔ ان دونوں میٹنگز کا پیش خیمہ رواں م...

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی  یہ اکتوبر 1954 کی بات ہے ۔ عین اس روز جب اُس زمانہ کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وہائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیئزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا یا دراصل یہ پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی، اسلحہ کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں پاکستان میں اس مسئلے پر کافی لے دے ہوئی تھی کیونکہ بہت سے مبصرین کے نزدیک صدر آیئزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔ اسی حوالے سے مزید پڑھیے پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری نشانے پر پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟ ’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘ پاکستان کی طرف سے آیئزن ہاور ک...