Skip to main content

لاک ڈاؤن فایدہ یا وقت کا ضیاء

نو نوبل انعام یافتہ سائنسدان مائیکل لیویٹ نے لاک ڈاؤن کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا


لوگوں کو گھروں میں رکھ کر گھبراہٹ پیدا کی گئی ، لاک ڈاؤن ہٹانے سے کیسزکی شرح میں بھی کمی ہوئی

واشنگٹن تازہ ترین 26 مئی 2020) نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے لاک ڈاؤن کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق نوبل انعام یافتہ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل لیویٹ نے کورونا کی ابتدائی سٹیج کی پیش گوئی بھی کی تھی جو دوست ثابت ہوئی۔ انہون نے لاک ڈاؤن کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو گھروں میں رکھ کر نہیں گھبراہٹ سے متاثرکیا گیا جبکہ دوسری جانب معیشت کو بھی تباہی کی طرف لے جایا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے ہلاکتیں بڑھی ہیں ۔ جے پی مورگن کی ایک رپورٹ میں یہ بھی  کہا گیا کہ  لاک ڈاؤن وبائی  مرض کا راستہ تبدیل کرنے میں  ناکام رہا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ لاک ڈاؤن  اُٹھانے کے بعد شرح اموات میں  کمی سے  ثابت ہوا  کہ وائرس وبا میں کمی کا تعلق لاک ڈاؤن  سے نہیں  ہے۔
ڈنمارک بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سکولوں اور شاپنگ مالز کے دورباہ کھولے جانے کے بعد کورنا کیسز کی شرح میں کمی آئی ہےیاد رہے دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 54 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ امریکا کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس عالمی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد ہے۔ سب سے زیادہ اموات امریکا میں ہوئیں، جہاں اب تک قریب 98 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہاں متاثرین کی تعداد بھی سب سے زیادہ، یعنی ساڑھے سولہ لاکھ کے قریب ہے۔21 لاکھ 68 ہزار سے زائد افراد کووڈ 19 سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کر دیاگیا تھا تاہم اب اس لاک ڈاؤن کوغیر موثر قرار دے دیا گیا ہے


Comments

Popular posts from this blog

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ میں جہڑپیں

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کے محاذ پر کیا ہو رہا  انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور اس تناؤ کو سنہ 1999 میں انڈیا کے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ سرحدی تنازع اس قدر کشیدہ ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے مشورہ کیا ہے لیکن اس ملاقات کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت بھی کی ہے۔ ان دونوں میٹنگز کا پیش خیمہ رواں م...

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی

پاکستانی ایٹمی پروگرام کی کہانی  یہ اکتوبر 1954 کی بات ہے ۔ عین اس روز جب اُس زمانہ کے پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وہائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیئزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لیے جوہری توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ آغاز تھا پاکستان کے جوہری پروگرام کا یا دراصل یہ پاکستان کی طرف سے پیمان تھا کہ وہ جوہری توانائی، اسلحہ کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانہ میں پاکستان میں اس مسئلے پر کافی لے دے ہوئی تھی کیونکہ بہت سے مبصرین کے نزدیک صدر آیئزن ہاور کا ایٹم برائے امن کے منصوبہ کا اصل مقصد امریکہ کے علاوہ دنیا کے دوسرے تمام ملکوں کو جوہری اسلحہ کی صلاحیت سے محروم رکھنا اور ان پر قدغن لگا کر انہیں جوہری اسلحہ کی تیاری سے روکنا تھا۔ اسی حوالے سے مزید پڑھیے پاکستان نہیں چین ہے انڈیا کے جوہری نشانے پر پاکستان جوہری پروگرام کے راز کیوں کھول رہا ہے؟ ’پاکستان کے پاس انڈیا سے زیادہ جوہری بم ہیں‘ پاکستان کی طرف سے آیئزن ہاور ک...

بھارت چین تنازعہ، پاکستان بھی میدان میں کودپڑا، زبردست اعلان کردیا

بھارت چین تنازعہ، پاکستان بھی میدان میں کودپڑا، زبردست اعلان کردیا اسلام آباد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور بھارت جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستانکے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کرتا رہا ہے اور اب بھارت متنازع علاقے میں فضائی پٹی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کو مذاکرات کا طریقہ اپنا کر معاملہ سلجھانا چاہیے۔ بھارت کے جارحانہ رویے سے خطے کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے۔ چین نے کبھی بھی جارحیت نہیں کی۔